کیا واقعی پاکستانی فوج نے اکہتر کی جنگ میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے؟

(سقوط ڈهاکہ حقائق)
سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے آج بھی بہت جھوٹ بولا جاتا ہے۔ آئیے آج مشرقی پاکستان اور 71 کی جنگ کے حوالے سے کچھ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

سن40 میں جو قرارداد پاس ہوئی تھی اس میں ریاستوں کا ذکر تھا ایک ملک کا نہیں۔ لیکن ہمارے اس وقت کے بڑوں نے فیصلہ کیا کہ اگر ہم کئی ریاستیوں کی آزادی مانگیں گے تو شائد ہم کامیاب نہ ہو سکیں تب ” پاکستان ” کے نام سے ایک ہی بڑی ریاست کا مطالبہ کیا گیا ۔ یہ مطالبہ اس وقت بھی بنگال سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ناگوار گزرا اور انہوں نے کہنا شروع کیا کہ ایک بار مطالبہ مان لیا جائے تو ہم اپنی الگ ریاست بنا لینگےp۔ علیحدگی کا بیج اسی وقت پڑ گیا تھا, اس وقت کوئی حقوق کا مسئلہ نہیں تھا.

پاکستان بنتے ہی مولانا بھاشانی نے جو کہ ایک بڑے بنگالی لیڈر تھے پاکستان سے الگ ہونے کی کوششیں شروع کر دیں شیخ مجیب اسی کے شاگرد تھے۔ اس کے یہ الفاظ کافی مشہور ہو گئے تھے کہ ” پاکستان کو خدا حافظ “۔ اس وقت کوئی حقوق وغیرہ کا مسئلہ نہیں تھا, سن 66 میں اگر تلہ سازش پکڑی گئی جس میں شیخ مجیب انڈین خفیہ ایجنسی را کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑنے کی سازش میں مصروف تھے جنرل ایوب نے شیخ مجیب کو غداری کے جرم میں سزا دینے کا فیصلہ کیا.

بھٹو نے جو” جمہوریت ” کے ذریعے اپنے اقتدار کی راہ ہموار کر رہے تھے جنرل ایوب کے اس فیصلے کے خلاف شیخ مجیب کے حق میں ملک گیر مہم چلائی اور نعرہ بلند کیا کہ ” ایک آمر نے ایک جمہوری لیڈر کو قید کر رکھا ہے اور اس کو قتل کرنے لگا ہے اسکو رہا کیا جائے”۔ بھٹو نے عوامی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے شیخ مجیب کو سزا سے بچا لیا اور اس نے رہا ہوتے ہی فوری طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔

اسی دوران بھارت کے جنرل اوبین نے مکتی باہنی نامی گوریلا فوج تشکیل دی جو پاکستان دشمن لوگوں پر مشتمل تھی انکی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ تک پہنچ گئی اور انہوں نے پاک فوج اور پاکستان کے حامیوں پر بنگلہ دیش بھر میں حملے شروع کر دیئے اس تنظیم کی سربراہی پاک فوج سے کے سابقہ بنگالی افسر کرنل عثمانی کر رہے تھےجو ریٹائرڈ ہونے کے بعد شیخ مجیب سے مل گئے تھے اور اگرتلہ سازش کا حصہ تھے ۔

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مکتی باہنی پاک فوج کے آپریشن سرچ لائٹ کا ردعمل تھی بلکل جھوٹ بولتے ہیں ۔ درحقیت آپریشن سرچ لائیٹ مکتی باہنی کی کاروائیوں کا ردعمل تھا ۔ یہ لوگ کبھی یہ نہیں بتا پاتے کہ ” آپریشن سرچ لائیٹ کے دوران ہی کیسے ڈھائی تین لاکھ کی مکتی باہنی فوج ٹرینڈ بھی ہوگئی ، منظم بھی اور اس نے پاک فوج کے خلاف جنگ بھی شروع کر دی ؟ ” یہ فوج 68ء سے ہی بھارت نے تیار کرنی شروع کر دی تھی اور اسی وقت سے اسکی کاروائیاں شروع ہو چکی تھیں ۔ بنگلہ دیش کے کئی اہم اضلاع پر وہ قبضہ بھی کر چکے تھے.

ان حالات بھٹو نے الیکشن کا مطالبہ کر دیا اور عوامی دباؤ کے ذریعے ایسی حالت میں الیکشن کروائے گئے جب بنگلہ دیش کے ایک ایک پولنگ سٹیشن کو مکتی باہنی کے دہشت گرد کنٹرول کر رہے تھے اور پاکستان کا نام لیتے ہوئے لوگ ڈرتے تھے۔ شیخ مجیب کی عوامی لیگ کے خلاف لوگوں میں امید وار تک کھڑا کرنے کی ہمت نہ تھی۔ بھٹو نے پاک فوج کا اتنخابات کچھ عرصے کے لیے موخر کرنے کا مشورہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اسکی وجہ سے شیخ مجیب نے بنگال میں کلین سویپ کر دیا اور مجموعی طور پر بھٹو کی 81 سیٹوں کے مقابلے میں 161 سیٹیں جیتیں۔ تب انتخابات کے لیے ضد کرنے والے “جمہوریت کے چیمپئن” بھٹو نے اقتدار شیخ مجیب کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور نعرہ لگایا ” ادھر تم ادھر ہم”۔

شیخ مجیب جو اسی انتظار میں تھا اس نے فوری طور پر آزادی کا اعلان کر دیا حالات بدترین ہوگئے مجبوراً فوج نے ایمرجنسی نافذ کر دی اور پاکستان دشمن عناصر اور مکتی باہنی کے خلاف پہلی بار آپریشن شروع کیا, پاکستان کی تقریبا 50000 کے قریب فوج باغی ہو کر مکتی باہنی سے مل گئی جس کے نتیجے میں انکی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی۔

یہ جھوٹ ہے کہ پاکستانی فوج 90000 ہزار تھی اصل تعداد تقریبا 40000 یا اس سے کم تھی بقیہ غیر فوجی سرکاری ملازمین حتی کہ انکی فیملیز کو بھی شامل کر کے 90000 تعداد بنائی گئی۔ تقریباً 25000 ہزار فوج ڈھاکہ میں تھی بقیہ 15 سے 20 ہزار فوج چھوٹی چھوٹی ٹولیوں 100،50، حتی کہ 10 اور 20 کی تعداد میں پورے بنگلہ دیش میں پھیلی ہوئی تھی جن کے پاس صرف ہاتھ میں لے کر چلانے والے ہتھیار تھے۔ نہ ٹینک ،نہ توپیں نہ بھاری مشین گنیں اور نہ ہوائی جہازوں کی مدد۔

یہ مشکل ترین جنگ تھی۔ پورا بنگال جنگل اور دلدلی علاقوں پر مشتمل ہے جن کے راستے پاک فوج نہیں جانتے تھے نہ مقامی زبان سے واقف تھے۔ جن سے مقابلہ تھا وہ ان سب چیزوں کے ماہر تھے اور عام لوگوں کے بھیس میں تھے اس وقت وہاں کے عام لوگ ، تین لاکھ کی یہ فوج پاک فوج کے دشمن تھی۔

مرکز یعنی ڈھاکہ سے نہ تازہ کمک مل رہی تھی نہ ہی بھاری ہتھیار, ان حالات میں پاک فوج دم لیے بغیر مسلسل 9 مہینے لڑتی رہی جو کہ ایک ریکارڈ ہے اور ناقابل یقین طور پر کم ہتھیاروں، کم تعداد اور انتہائی نامساعد حالات کے باوجود مکتی باہنی پر قابو پانے لگی۔ بلاشبہ یہ حیرت انگیز تھا.

انڈیا جو اس ساری صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا تھا اس نے بنگلہ دیش ہاتھ سے پھسلتے دیکھا تو فوری طور پر روس سے 20 سال کا معاہدہ کر لیا کہ” مجھ پر حملہ ہوا تو روس پر حملہ تصور ہوگا ” تاکہ آنے والی جنگ میں پاکستان کے لیے چین کی مدد کو روکا جا سکے۔ مغربی پاکستان 65 کی جنگ میں اپنا اکثر گولہ بارود استعمال کر چکا تھا اور اس کے پاس صرف چھ دن جنگ جاری رکھنے کا سامان تھا.

انڈیا نے ڈھائی لاکھ فوج کی مدد سے پوری طاقت سے بنگلہ دیش پر تین اطراف سے حملہ کر دیا جبکہ بنگلہ دیش کے اندر سے اسکو تین لاکھ مکتی باہنی گوریلوں کی مدد حاصل تھی۔ ان کے مقابلےمیں پورے بنگال میں بکھری ہوئی پاک فوج کی تعداد کسی بھی طرح 20 ہزار سے زیادہ نہ تھی جو 9 مہینے کی تھکی ہوئی تھی اور جن کے پاس صرف ہاتھ میں اٹھانے والے ہلکے ہتھیار تھے ۔۔( ان میں سے بھی کافی بڑی تعداد شہید ہو چکی تھی )۔ بقیہ 25000 ڈھاکہ میں مرکز میں تھی.

اسکے باوجود پاکستانی فوج دیوانوں کی طرح لڑی۔ یہانتک کہ انڈیا کے اسوقت کے آرمی جنرلز اپنی کتابوں میں لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ ” ہم کہیں بھی پاک فوج کو روند کر آگے نہیں جا سکے لیکن وہ چونکہ تعداد میں بے حد کم تھے اسلئے ان کے درمیاں میں گیپ بہت تھے اور ہم انکو بائی پاس کر جاتے تھے ” ۔

جبکہ انڈین آرمی چیف مانک شاہ نے لکھا کہ ” وہ اپنی زمین سے ہزاوروں کلومیٹر دور تھے ۔ ان تک اشیائے ضرورت اور اسلحہ نہیں پہنچ رہا تھا۔ انہیں طبی امداد نہیں مل رہی تھی۔ ہماری مکتی باہنی ان پر ہر جگہ حملے کر رہی تھی ۔ ان کے سیاستدان اور انکا میڈیا انکا مخالف تھا۔ ہم ان پر حملے کے لیے ایک سال تیاری کرتے رہے۔۔ اس کے باوجود وہ ایک سال تک لڑتے رہے۔ اگر کوئی کہے کہ وہ بزدل تھے تو یہ غلط بات ہے ۔ 1971 میں پاکستان فوج بہت زیادہ دلیری اور جگر سے لڑی۔”۔

ساری فوج کا مرنا یقینی تھا کوئی امید باقی نہیں تھی لہذا فوج بچانے کے لیے ہتھیار ڈالنے کا حکم ہوا اور پاک فوج میں پہلی بار ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی اور کئی کمانڈروں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ یہانتک کے ملک احسن 15 دن تک لڑتے رہے جسکی وجہ سے انڈیا کے آرمی چیف نے اس کے حق میں پاک فوج کو تعریفی خط لکھا۔ ایک برگیڈیر صاحب نے اپنی فوج سے عہد لیا اور اپنے 300 ساتھیوں کے ساتھ انڈین فوج سے اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کہ وہ سارے کے سارے شہید نہیں ہوگئے.

بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستانی نام لیواووں پر جو ظلم کیا گیا وہ خون اور آنسووں کی ایک الگ تاریخ ہے اور ناقابل بیان ہے۔ شیخ مجیب نے اقتدار ملتے ہی ہر جمہوری حکمران کی طرح صرف تین سال میں اتنی کرپشن کی کہ اس کے اپنے ہی لوگوں نے اسکو پورے خاندان سمیت قتل کر دیا اور اس کے قتل کے خلاف پورے بنگال میں کوئی ایک آواز نہیں اٹھی۔

آج ان تمام سچائیوں سے پردہ اٹھ رہا ہے ۔ بھارتی اور بنگالی مصنفین آج ان سارے حقائق سے خود پردہ اٹھا رہے ہیں ۔ ششانکہ بینر جی ، شرمیلا بھوس، آر کے یادیو کی کتابیں اور روسی خفیہ ایجنسی کے سابقہ ایجنٹ یوری بزمنو کا انٹریو آج بھی دستیاب ہے جو تاریخ کی کچھ اور ہی تصویر پیش کرتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ ایک سبق ہے بہت سی سچائیاں توڑ مروڑ کر بتائی گئی ہیں اور بہت سی چھپا دی گئی ہیں یہ اپنوں کی غداری کا ایک سیاہ باب ہے اور اس کا فریب آج بھی قائم
ہے جو لوگوں کی نظروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔

نوٹ ۔ یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی کچھ ” نام نہاد ” غیرت مند اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ” ساری پاک فوج کو مر جانا چاہئے تھا لڑتے ہتھیار نہ ڈالتے “. ان سے عرض ہے کہ جب امید باقی نہ رہے تو فوج بچانا کتنا اہم ہوتا ہے اس کا حوالہ ہمیں ہمارے نبیﷺ کی سنت سے بھی ملتا ہے ۔

مثلاً جب غزوہ احد میں کفار غالب آنے لگے تو پیچھے ہٹ گئے تھے ۔ آپ کسی بھی فاتح کے استقبال کے لیے مدینے سے باہر نہیں گئے تھے لیکن جنگ موتہ میں ایک لاکھ کفار کے گھیرے سے 3 ہزار کی فوج کو بچا کر لانے والے حضرت خالد بن ولید کے استقبال کے لیے مدینے سے باہر تشریف لائے۔ حضرت خالد بن ولید نے فتح حاصل نہیں کی تھی لیکن فوج کو بچا لائے تھے ۔

دوسری بات : سقوطہ ڈھاکہ کے حوالے سے وکیپیڈیا انتہائی جانبدار ہے۔ ورنہ کبھی اس نام نہاد ” آزاد سورس آف انفارمیشن ” کو اسلام اور پاکستان کے حوالے سے متنازع معاملات پر ایڈٹ کر کے دکھائیے.

اپنا تبصرہ بھیجیں