پاکستان ایک سچے اور کھرے سیاستدان سے محروم ہو گیا ، سراج رئیسانی شہید کی ذاتی زندگی کے حوالے سے دنگ کر ڈالنے والے حقائق سامنے آ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)نوابزادہ سراج رئیسانی 4 اپریل 1963 کو مہرگڑھ ضلع کچھی میں نواب غوث بخش رئیسانی کے گھر پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق بلوچستان کے رئیسانی قبیلے سے تھا۔نواب غوث بخش رئیسانی شہید بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے ۔ ان کے بڑے بھائی

نواب محمد اسلم رئیسانی بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے علاوہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہے، جب کہ ان کے دوسرے بڑے بھائی حاجی لشکری رئیسانی بھی سیاست میں انتہائی سر گرم ہیں۔ وہ بھی مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔ وہ سینیٹ آف پاکستان کے بھی رکن رہے۔ 31 جولائی 2011ء کو نوابزادہ سراج رئیسانی شہید مستونگ میں ہی ایک فٹبال میچ کے مہمان خصوصی تھے تب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ، جس میں ان کے بڑے بیٹے میر حق مل رئیسانی شہید ہو گئے تھے ۔نوابزاد سراج رئیسانی نے ابتدائی تعلیم بولان سے حاصل کی اور بعد ازاں زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام سے ایگر و نومی میں بی ایس سی کیا، جس کے بعد نیدرلینڈ سے فلوری کلچر کا کورس کیا۔سراج رئیسانی کے والد مرحوم نواب غوث بخش رئیسانی سابق گورنر بلوچستان اور سابق وفاقی وزیر خوراک و زراعت بھی رہے۔ انہوں نے 1970 میں بلوچستان متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔سراج رئیسانی سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور سابق سینیٹر و بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔سراج رئیسانی نے چند سال قبل بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے رواں سال تین

جون کو اپنی جماعت کو صوبہ میں بننے والی نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کرنے کا اعلان کیا اور بی اے پی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی35 مستونگ سے الیکشن لڑرہے تھے۔اس سےقبل مستونگ میں جولائی2011 میں ایک بم دھماکے میں نوابزادہ سراج رئیسانی کا بیٹا اکمل رئیسانی شہید ہو گیا تھا۔واضح رہے بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 35 مستونگ سے نوابزادہ سراج رئیسانی کو ٹکٹ جاری کیا تھا اور وہ انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ نوابزادہ سراج رئیسانی شہید اردو، براہوی ، بلوچی ، پنجابی، سرائیکی ، سندھی ، پشتو، فارسی، انگلش اور تھائی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ انہیں اسلام سے بہت لگاؤ تھا وہ ہر روز صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے ۔ وہ امن کے داعی تھے اور دہشتگردی سے نفرت کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں