کیپٹن صفدر شریف خاندان کے خلاف وعدہ معاف گواہ؟؟؟ جاتی امراء کے درو دیوار ہلا دینے والی خبر آگئی

لاہور(ویب ڈیسک)کیپٹن ریٹائر صفدر کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف وعدہ معاف بننے کی پیش کش ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے داماد، مریم نواز کے شوہر اور رکن اسمبلی کیپٹن ریٹائر صفدر کی جانب سے تہلکہ خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیپٹن ریٹائر صفدر نےدعوی کیا ہے کہ انہیں شریف خاندان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی پیش کش کی گئی تھی۔ رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا کہنا ہے کہ پاناما کیس میں مجھے وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ جے آئی ٹی پیشی کے دوران ان سے جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا تھا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے لیے احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے بعد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی میں پیشی پر تفتیش کنندگان نے پوچھا کہ پانامہ کیا ہے، میں نے جواب دیا کہ پانامہ 58 ٹو بی ہے، مجھے سخت سوالات کرکے اور پریشر ڈال کر وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی گئی۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پانچ گھنٹے کی ریکارڈنگ کی گئی اور اتنا سخت ماحول تھا جیسے جنگی قیدی بیٹھے ہوں۔ واضح رہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر منگل کے روز اکیلے ہی احتساب عدالت پیش ہوئے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ شریف خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ حتیٰ کے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اہلیہ مریم نواز بھی ان کے ہمراہ نہیں تھیں۔اس موقع پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے تنہاء ہی احتساب عدالت میں سوالات کے جوابات دیے۔

واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف اور مریم نواز کے بعد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے آج عدالت کے روبرو اپنا بیان قلمبند کرایا۔اسلام آباد کے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ریفرنس کی سماعت کے دوران نواز شریف اور مریم نواز نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128 سوالات کے جواب تحریری شکل میں پڑھ کر سنائے۔ آج کیس سماعت شروع ہوئی تو کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بھی تحریری شکل میں لکھا گیا بیان پڑھنا شروع کیا جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مداخلت کی اور کہا کہ آپ ایک ہی سانچے میں لکھے تحریری جوابات لے آئے ہیں، اگر ان سے سوالات پوچھے جائیں تو شاید جواب مختلف ہوں۔ نامزد ملزم کیپٹن (ر) صفدر نے پراسیکیوٹر نیب کے اعتراض کے باوجود اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے ٹرائل کے لیے جے آئی ٹی کی خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ ہے۔آج کی سماعت کے دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128سوالات میں سے 80 کے جواب دے دیے۔ عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی اور کیپٹن (ر) محمد صفدر مزید سوالات کے جواب کل ہونے والی سماعت کے دوران دیں گے۔ (م،ش)

اپنا تبصرہ بھیجیں