پاکستان اور بھارت کا آبی تنازع، چین بھی میدان میں آگیا بھارت کو نا قابل یقین پیشکش کر دی

نئی دہلی(نیشن ٹائمز:ویب ڈیسک)چین اور بھارت نے تبت سے بنگلہ دیش کی طرف بہنے والے دریائے برہما پتر کے تنازع کو حل کرلیا جو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے تعاون کا واضح اظہارہے ۔گزشتہ روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے معاہدے پر دستخط کئے ۔مودی نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ

ہماری بات چیت بھارت چین دوستی کو مزید طاقت بخشے گی ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان راویش کمار کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے 2روزہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر ہونیوالی ملاقات میں 2معاہدے ہوئے جن کے تحت چین دریائے برہما پتر کی ہائیڈرولوجیکل معلومات فراہم کرے گا اور اس کے علاوہ چین بھارت سے پریمیم باسمتی چاول کی قسم کے علاوہ دوسری اقسام کی درآمد کے حوالے سے عائد شرائط میں بھی ترمیم کرے گا ۔بھارت نے گزشتہ سال کہا تھا کہ چین نے دریائے برہما پتر کے ہائیدرولوجیکل معلومات یعنی پانی کے بہائو،تقسیم اور معیار بارے سائنسی معلومات فراہم کرنے کا معاہد ہ نہیں کیا تھا جبکہ چین نے تکنیکی وجوہات کا حوالہ دیا تھا۔ نئی دہلی چین کیساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے حوالے سے بھی تشویش کا شکار ہے اور اس کی جانب سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت تک مصنوعات جیسے چاول ،تل ،سویا بین اور چینی برآمد کرنے کیلئے مزیدرسائی کی بھی کوشش کی گئی ہے ۔ بھارت کا چین کیساتھ تجارتی خسارے کا حجم 51ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے جو کہ گزشتہ دہائی میں 9گنا اضافہ ہے ۔

تاجروں کے مطابق چاول بارے معاہدہ بھارت کو چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد دے گا جو دنیا کا سب سے بڑا چاول کا خریدار ہے ۔اقوام متحدہ کی خوراک وزراعت تنظیم کے اندازے کے مطابق چین2018میں 6کروڑ 40لاکھ ٹن چاول خریدے گا جبکہ بھارت ایک کروڑ 19لاکھ ٹن چاول برآمد کرے گا ۔ عالمی تجارتی کمپنی کے نئی دہلی میں مقیم ڈیلر نے خوراک کے معیار ، جانوروں اور پودوں کی حفظان صحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسابقتی قیمتوں کے باوجود بھارت اپنے فیٹوسینیٹری (phytosanitary) معیار کی وجہ سے چین کو چاول برآمد نہیں کرسکتا تھا اب چونکہ یہ معیار تبدیل ہورہا ہے لہذا بھارت چین کو ہر سال 10لاکھ ٹن سے زیادہ چاول باآسانی برآمد کر سکتاہے ،شنگھائی تعاون تنظیم 2001میں مشرق وسطیٰ میں بنیاد پرستی پر مبنی اسلام اور دیگر سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کیلئے بنائی گئی تھی ،جس میں گزشتہ روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کو شامل کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں