معاہدے کے باوجود کچھ ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، عالمی ادارے کی رپورٹ جاری

جوہری ہتیھاروں سے پاک دنیا کا تصور شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ امن پر تحقیق کرنے والے سویڈش تھنک ٹینک سپری کے مطابق نئے جوہری ہتھیار پہلے ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے 122 رکن ممالک نے جوہری ہتھیاروں نے ایک معاہدے کے ذریعے فیصلہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیار

تیار نہیں کریں گے اور نا ہی ایسے ہتھیار اپنے پاس رکھیں گے۔ تاہم اس معاہدے کے بعد بھی دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوا۔سپری کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے نو ممالک کے پاس ابھی بھی 14,465 جوہری ہتھیار ہیں۔ یہ ممالک ہیں امریکا، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا ہیں۔ عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو اقلیت میں ہونے کے باوجود یہ ممالک ان مہلک ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبردار ہونے پر رضامند دکھائی نہیں دیتے۔سپری کی رپورٹ کے مطابق جوہری طاقتیں اپنے ہتھیاروں کو مستقل جدید سے جدید تر بنانے میں لگی ہوئی ہیں۔ سپری کے محقق شانون کائل کے بقول ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانے کی جگہ نئے ہتھیار لے لیں گے۔ کچھ ہتھیار تو چالیس پچاس سال پرانے ہیں۔ نئے جوہری ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں، جو نئی تکنیک اور مختلف مہارت رکھتے ہیں ۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء کے مقابلے میں رواں برس جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں 470 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کمی کا تعلق 2010ء میں روس اور امریکا کے مابین تخفیف اسلحے کے ’نیو سٹارٹ‘ نامی معاہدے سے ہے۔ دنیا کے 92 فیصد جوہری ہتھیار انہی دو ممالک کے پاس ہیں۔

سپری کے مطابق امریکا کے6,450 جبکہ روس کے پاس 6,850 وار ہیڈز ہیں۔شانون کائل کہتے ہیں، ’’ کچھ کمی کے باوجود جوہری ہتیھاروں کی موجودگی غیر معمولی خدشات کا باعث ہے۔ جوہری ہتھیار کے حامل تمام ممالک نے یا تو جوہری ہتھیاروں میں کمی کرنا شروع کر دی ہے یا پھرانہیں جدید بنانے کے اپنے طویل المدتی منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کوئی بھی ملک مستقبل قریب میں جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر دستبرداری کے حوالے سے کام کرنے پر رضامند دکھائی نہیں دیتا۔سپری کی یہ رپورٹ آزاد ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر مشتمل ہے جبکہ اس سلسلے میں امریکی اور برطانوی حکومت نے بھی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ دونوں حکومتیں جوہری اثاثوں کے حوالے سے نسبتاً شفاف موقف رکھتی ہیں۔کائل کے بقول اس سلسلے میں سب سے پیچیدہ ملک شمالی کوریا ہے، ’’بنیادی طور پر یہاں پر بالکل بھی شفافیت نہیں ہے۔ ہمیں اس ملک کے بارے میں تمام اطلاعات باہر سے کی جانے والی نگرانی سے ملتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں