دشمنوں کی ایسی کی تیسی۔۔۔۔پاکستان کے پاس کس نوعیت کے جوہری ہتھیا رموجود ہیں؟ بین الاقوامی رپورٹ نے بھارت پر لرزہ طاری کر دیا

سٹاک ہوم (ویب ڈیسک) سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 140سے 150جوہری ہتھیارہیں اور بھارت کے پاس 130سے 140جوہری ہتھیار ہیں جبکہ چین کے پاس 280کے قریب جوہری ہتھیا ر موجود ہیں ۔رپورٹ کے مطابق جوہری طاقت کے حامل ممالک اپنے جوہری ہتھیاروں

میں کمی لا رہے ہیں لیکن یہ ممالک اپنی ٹیکنالوجی میں جدت بھی لارہے ہیں اور نئی ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہے ہیں ۔ادارے کے سربراہ جان ایلیسن کا کہنا ہے کہ دنیا کی جانب سےجوہری اسلحے کی تخفیف کے لیے واضح عزم کی ضرورت ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ،روس ،انگلینڈ ،فرانس ،چین ،بھارت ، پاکستان ،اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس 14ہزار 465جوہری ہتھیار موجود ہیں جن میں سے 3ہزار 750جوہری ہتھیاروں کو اس سال کے شروع میں تعینات کردیا گیا تھا ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مریکہ کی شکاگو یونیورسٹی سے منسلک سائنسدانوں کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا بھارت ہر سال اربوں ڈالر جھونک کر خطے میں اسلحہ کی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اِسکے باوجود وہ جوہری ہتھیاروں کے شعبے میں پاکستان سے پیچھے ہے۔ اْن کے مطابق دْنیا میں اس وقت سب سے زیادہ جوہری ہتھیار اور جوہری مواد روس اور امریکہ کے پاس ہے۔ یہ دونوں ممالک 5 سے 6 ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، برطانیہ کے پاس 225 اور اسرائیل 80 ایٹمی ہتھیار کا مالک ہے پھر بھارت کے پاس 100 اور پاکستان کے پاس 120 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان

چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہے جس نے بھارت کے اس منصوبے کو جو کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن کہلاتا ہے یعنی پاکستان کے 8 کمزور حصوں سے گھس کر اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے ،ناکام بنا دیا ہے اس کی وجہ سے بھارت کی پریشانی اور بڑھ گئی ہے، پریشان ہو کر اس نے بچوں کی طرح سے رویہ اختیار کر لیا ہے اگرچہ وہ خود بھی ایٹمی طاقت ہے۔ اس نے پاکستان کی سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ، بلوچستان میں مداخلت اور خودکش دھماکے کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ لوگ اِس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ لاہور چرچ حملہ بھارت کی شرارت ہے۔ چنانچہ پاکستان نے بھارت کو اپنے کئی ہتھیاروں کے تجربے کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ پاکستان روایتی ہتھیاروں کے معاملے میں بھی بھارت سے کہیں آگے ہے۔ فضائی طور سے وہ اس سے کہیں مضبوط اور دفاعی صلاحیت سے آراستہ ہے۔ اس نے اپنے آپ کو جدیدF۔17 تھنڈر طیاروں سے لیس کرلیا ہے جبکہ بھارت کی فضائی صلاحیت کمزور نظر آرہی ہے پھر اس نے 2 فروری 2015ء کو ریڈار پر نظر نہ آنے والا اور روایتی و ایٹمی ہتھیار سے لیس کروز میزائل ’’رعد‘‘ کا تجربہ کیا۔ یہ رعد کروز میزائل جس کی رفتار کی حد 350 کلومیٹر ہے اور وہ زمین پر یا سمندر میں اپنے ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے، جو تجربہ کیا گیا اس میں اس کی کامیابی 100 فیصد تھی۔ یہ کروز میزائل ہے جو رکاوٹوں کے باوجود سیدھا اپنے ہدف کی طرف لپکتا ہے۔ 9مارچ 2015ء کو پاکستان نے شاہین سوئم بلیسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں