’’اقتدار میں آتے ہی کشمیر کو آزاد کردینگے‘‘بھارت کی سب سے بڑی جماعت کے اہم رہنما نے بھی دھماکہ خیزکتاب لکھ ڈالی ،پورے ہندوستان میں طوفان برپا

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کانگریس رہنما نے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی کوترجیح دیں گے،بھارتی حکومت کوحریت کانفرنس سے مذاکرات کرناچاہیے۔کانگریس لیڈرسیف الدین سوزنے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر مبنی ’کشمیرتاریخ کے آئینے میں اورجدوجہدکی کہانی ‘ نامی کتاب لکھ دی جواگلے ہفتے شائع کی جائیگی۔

مقبوضہ کشمیرسے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈر نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیری عسکریت پسندوں کیخلاف سخت گیرموقف سے کام نہیں چلے گا۔سیف الدین سوز نے کہا کہ واجپائی اگرحزب المجاہدین سے بات کرسکتے تھے تومودی حکومت کیوں نہیں؟ مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کااستعمال نہیں چلے گا،آپ مارسکتے ہیں،مارتے جائیں مگراس سے مسئلہ کاحل نہیں نکلے گا۔انہوں نے تاریخ سے پردے اٹھاتے ہوئے کہا کہ منموہن سنگھ کومسئلہ کشمیرپرجون 2007کواسلام آبادمیں پرویزمشرف سے ملاقات کرناتھی،انہوں نے مجھے کشمیرکے معاملے پربات کیلیے بحثیت وزیربلایاتھا،وہ مشرف سے فیصلہ کن بات چیت کیلئے اسلام آبادجارہے ہیں،بدقسمتی تھی کہ وہ حتمی اورفیصلہ کن ملاقات کیلئے نہ جاسکے۔کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے کشمیرمیں محبوبہ مفتی سے اتحاد2019 کے انتخابات کے سبب توڑاہے،بی جے پی 2019انتخابات کیلئے مہم ممکنہ طورپرجموں سے شروع کریگی۔دوسری جانب بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈرصبرامنین سوامی نے سیف الدین سوز کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کتاب بیچنے کے لیے اگر کوئی سستے ہتھکنڈے اپناتا ہے تو اس سے یہ سچ نہیں بدلا جائے گا۔ سیف الدین سوزپاکستان چلے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں