امریکہ نے ملا فضل اللہ کو کیوں مارا

ملا فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان المعروف (ٹی ٹی پی) خوا رج کا سربراہ تھا اور تحریک نفاظ شریعت محمدی کے سربراہ “صوفی محمد” اس کے سسر تھے۔ وہی صوفی محمد جو خود بھی ٹی ٹی پی کے علاقائی سربراہ تھے اور جنہوں نے آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور کئی فوجیوں کو شہید بھی کیا۔۔

یہ صوفی محمد ٹی ٹی پی کے ترجمان ‘احسان اللہ احسان’ کے اعترافی بیانات کے بعد راہ راست پر آگئے اور انہوں نے پاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی والے جہاد سے نکل چکے ہیں اور اب صرف فساد ہی فساد پھیلا رہے ہیں۔

صوفی محمد پاکستانی طالبان کا ایک بہت بڑا نام ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگالیں کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ نے صوفی محمد کی بیٹی سے شادی کر رکھی تھی، اور بعد میں اسی صوفی محمد نے ملا فضل اللہ کے خلاف پاک فوج کی حمایت بھی کی۔

صوفی محمد نے واضع اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی میں خوارج کی تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں، اور یہاں تک کہا کہ ملا فضل اللہ دشمنان اسلام کے ساتھ مل چکا ہے، واجب القتل ہوچکا ہے۔

اس کے علاوہ صوفی محمد نے آرمی پبلک سکول پشاور پر ملا فضل اللہ کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس حملے کو سراسر خلاف اسلام قرار دیا اور اپنے ہی داماد ملا فضل اللہ کو خوارج قرار دیکر واجب القتل کہا۔

جب پاک فوج نے جنرل راحیل شریف کی کمان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو ملا فضل اللہ افغان بارڈر کے راستے افغانستان میں پاکستانی سرحد سے منسلک بھارتی قونصل خانے میں پناہ گزین ہوگیا، بھارتیوں نے افغان این ڈی ایس اور امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر اسے بھرپور امدا دی، اسے افغانستان میں آزادانہ گھومنے کے لیے خصوصی پاسز دلوائے اور اسے ہر طرح کی مالی اور ہتھیاروں کی مدد دی، بدلے میں اس سے ایک ہی مطالبہ کیا گیا کہ بارڈر سے گھس کر پاک فوج پر حملے کرواؤ۔

ملا فضل اللہ کا سب سے بڑا جرم آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کو شہید کروانا تھا، اس کے علاوہ فوجیوں اور عوام پر خودکش دھماکے کروانا، ائئرپورسٹس اور نیوی بیسز پر حملے وغیرہ بھی اس کے اہم ترین جرائم تھے۔

اے پی ایس پشاور پر حملے کے بعد پاک فوج اسے زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے سنجیدہ ہوگئی، امریکہ سے کھل کر مطالبہ کیا گیا کہ یا تو فضل اللہ کو ماردو یا ہمارے حوالے کردو لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے کیونکہ اس وقت ملا فضل اللہ کے پاس بڑی افرادی قوت تھی اور وہ کافی خودکش دھماکے کروا رہا تھا

پھر پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب مکمل کی تو قبائلی علائقوں سے دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہوگیا، بچے کھچے افغانستان بھاگ گئے یا ملک کے دوسرے شہروں میں سلیپر سیلز کی طرح زندگی گزارنے لگے۔

جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشن رد الفساد شروع کیا، یہ آپریشن انہیں سلیپر سیلز کو ختم کرنے اور ملک میں بچے کھچے چھپے دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے شروع ہوا جو الحمداللہ آج تک کامیابی سے جاری و ساری ہے۔

اس کے علاقہ پاک فوج نے افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تاکہ ملا فضل اللہ کے دہشت گرد بارڈر سے گھس کر پاکستان میں دہشت گردی کرنے نہ آسکیں، یہ کام آج بھی جاری ہے اور اسی باڑ کی وجہ سے ملا فضل اللہ افغانستان میں ہی قید ہوگیا ہے،

امریکہ شدید سوچ میں پڑ گیا تھا کہ ملا فضل اللہ اب کوئی حملہ نہیں کر پارہا، پاک فوج نے بارڈر پر بھی باڑ لگادی، اب تو ملا فضل اللہ بلکل بیکار ہوگیا ہے اور اس کے پاس بہت سارے خفیہ راز بھی ہیں، اگر پکڑا گیا تو پاک فوج کو سب بتادے گا اس لیے اس چلے ہوئے کارتوس سے جان چھڑواکر کام کسی نئے دہشت گرد کو سونپنے کا پلان بنایا گیا۔

مارنے سے پہلے امریکہ نے پاکستان کو آفر کی تھی کہ ملا فضل اللہ لے لو اور بدلے میں ہمیں شکیل آفریدی دیدو مگر پاکستان نے صاف انکار کردیا اور ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اب امریکہ اگر کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے اسے ڈو مور کرتے ہوئے فضل اللہ کو ٹھکانے لگانا ہی پڑے گا جو کہ امریکہ کی ناک کے نیچے افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں میں ضیافتیں اڑاتا پھر رہا ہے۔

امریکہ پاکستان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کیونکہ اسے افغانستان سے صرف پاک فوج ہی نکال سکتی ہے اس لیے امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا مجبوری بھی ہے اور پاک فوج امریکی یہودیوں کے اس کھیل کو ان سے زیادہ نہ صرف سمجھتی ہے بلکہ ان کے پلان ان کے منہ پر بھی مارتی ہے۔

قصہ مختصر، ملا فضل اللہ پچھلے 6 ماہ سے پاکستان میں کوئی بم دھماکہ نہیں کروا سکا تھا اس لیے ناکاہ ہوچکا تھا، امریکہ نے اسے مار کر ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کی ہے

پہلا : امریکہ نے اسے مار کر پاکستان سے تعلقات اچھے کرنے کی کوشش کی ہے
دوسرہ : اس استعمال شدہ ٹشو پیپر سے نجات حاصل کرکے عمر خالد خراسانی کے لیے راستہ صاف کردیا ہے
تیسرا : ملا فضل اللہ کو راستے سے ہٹاکر اس کی جگہ داعش کو افغانستان میں لانچ کیا جائے گا

آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ یہ عمر خالد خراسانی کون ہے؟

جب ٹی ٹی پی آپریشن ضرب عضب کے بعد ناکارہ بن گئی تو امریکہ نے عمر خالد خراسانی کو کام سونپا اور عمر خالد خراسانی نے پاکستان میں ہی ٹی ٹی پی کی ذیلی تنظیم “جماعت الاحرار” بنائی جس کا کام بھی بلکل ویسا ہی تھا جیسا ٹی ٹی پی خوارج کا۔ جماعت الاحرار کے پلیٹ فارم سے ملک میں کئی خودکش حملے کروائے، مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر حملے بھی اسی خراسانی خارجی نے کیے جس میں ہمارے کئی فوجی شہید ہوئے۔

27 مارچ 2016 کو لاہور میں ایسٹر کے موقع پر حملے، 13 فیبروری 2017 کو لاہور میں مال روڈ میں ایس ایس پی اور ڈی آئی جی پر حملے اور قتل میں بھی یہی عمر خالد خراسانی ملوث تھا.عمر خالد خراسانی نے پہلے اپنی جماعت کا نام بھی “جماعت الاحرار ہند” رکھا تھا اور کئی مرتبہ ہندوستان سے مدد طلب کرنے کی بات بھی کرچکا تھا،

عمر خالد خراسانی کی دہشت گرد تنظیم “کلعدم جماعت الاحرار” عالمی دہشت گرد تنظیمیوں کی فہرست میں شامل ہے لیکن جب پاکستان نے عمر خراسانی پر پابندیاں لگوانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 مئی 2018 کو قرار داد پیش کی تو اس کو امریکہ نے ویٹو کردیا جس سے ثابت ہوا کہ عمر خراسانی امریکہ کا ہی پالتو اثاثہ ہے۔

امریکہ کے نزدیک حافظ سعید تو دہشت گرد ہے، بنا ثبوت کے اس کا نام دہشت گردوں کے فہرست میں ڈلوادیا، اس کی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دلوادیا لیکن عمر خراسانی ہو یا ملا فضل اللہ ان کے خلان کبھی قرارداد منظور ہونے نہیں دی۔

عمر خالد خراسانی کا تعارف اس لیے کروا رہا ہوں تاکہ آپ اسے اچھی طرح پہچان لیں کیونکہ اب یہی ملا فضل اللہ کی جگہ لینے کے مکمل اہل بن چکا ہے، اس کے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات ہیں اور امریکیوں نے تو اسے شروع سے ہی پال رکھا ہے

اب ہونا یہ ہے کہ امریکہ ملا فضل اللہ کی بچی کچھی ٹی ٹی پی اور عمر خراسانی کی جماعت الاحرار کو ملاکر انہیں داعشی کے زیر کنٹرول کرنا چاہتا ہے تاکہ ان سب کو داعش میں ضم کرکے ایک بڑا دہشت گرد اتحاد تشکیل دیکر اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔

میڈیا میں بھی کئی خبریں آچکی ہیں کہ امریکہ داعشی دہشت گردوں کو افغانستان میں جمع کر رہا ہے؟ کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ افغانستان کے راستے انہیں پاکستان بھیجنا چاہتا ہے ورنہ امریکہ خود تو پوری دنیا کی فوج لیکر بھی محض افغان طالبان کو بھی شکست نہیں دے سکا۔

یاد رہے داعش اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد اور امریکی سی آے اے کے ایجنٹوں پر مشتمل دہشت گرد تنظیم ہے جسے خلافت کے نام پر اس طرح لانچ کیا گیا ہے کہ وہ مسلمان بن کر لوگوں کو بےدردی سے قتل کریں تاکہ پوری دنیا یہ سمجھے کہ اسلام شدت پسند مذھب ہے اور لوگ اسلام سے دور بھاگیں۔

شام، لبیا اور عراق کو تباہ کرنے کے پیچھے یہی داعش ہے، اسی داعش نے اعلان کیا تھا کہ ہم مکہ مدینہ پر بھی حملہ کریں گے لیکن جب انہیں کہا گیا کہ اگر آپ مسلمان ہیں اور جہاد کر رہے ہیں تو آپ کے سب سے قریب اسرائیل آتا ہے اس کے خلاف جہاد کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ “اللہ ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کا حکم نہیں دیتا” یاد رہے ان کا لفظ اللہ سے اصل مطلب شیطان ہے جو انہیں اپنے باپ اسرائیل کے خلاف لڑنے سے منع کرتا ہے جبکہ باقی تمام مسلمانوں کو بےدردی سے قتل کرنے پر انہیں جنتی حوروں کے سبز باغ دکھاتا ہے۔

اب امریکی اور اسرائیلی صیہونی مشرق وسطہ کے بعد پاکستان کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، داعش کو پاکستان میں موجود اپنی پراکسی دہشت گرد تنظیموں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار، بی ایل اے، بی آر اے وغیرہ میں ضم کروایا جارہا ہے پھر یہ سب نام بدل کو داعش بن جائیں گے اور یوں اسلام کے نام اسلامی جمہوریہ پاکستان پر حملے کی کوششیں کریں گے۔ عمر خالد خراسانی ان کو لیڈ کرے گا

مگر میرے ہم وطنوں ! آپ بےفکر رہو، ان کا سامنا شامی یا عراقی فوج سے نہیں بلکہ پاک فوج اور آئی ایس آئی سے ہے، وہ آئی ایس آئی جو وقت کی دو سپر پاور روس اور امریکہ کو افغانستان میں مار چکی ہے، جب امریکہ پوری دنیا کی فوج لیکر بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو یہ داعش پیدا کرکے کونسے تیر مارلے گا۔ ہم نے بھی تیاری کر رکھی ہے، ان کی توقع سے بڑھ کر انہیں کتے کی موت ماریں گے۔

مفہوم قران : بیشک شیطان کے منصوبے ناقص ہوتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں