شہزادہ ولیم کا فلسطین کا دورہ، ایسا اعلان کر دیا کہ یہودی جل کر خاک ہو جائیں

برطانیہ کے شہزادے ولیم نے بدھ کے روز دورہ فلسطین کے آخری دن مقبوضہ فلسطین کے مغربی کنارے پر واقع پناہ گزینوں کے کیمپ اور مقبوضہ بیت المقدس کے الحرم القدسی کا بھی دورہ کیا ہے۔ عربی خبر رساں ادارے کے مطابق الحرم القدسی مسجد اقصی کی دیوار کے ساتھ واقع علاقے کو کہا جاتا ہے

جس میں پہاڑ پر موجود گنبد، مسجد قبلیٰ اور دیگر مقاماتِ مقدسہ شامل ہیں۔ شہزادہ ولیم برطانیہ کے شاہی خاندان سے مقبوضہ فلسطین اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ سرکاری دورے کے موقع پر پرنس ولیم نے رم اللہ کے علاقے میں قائم اقوام متحدہ کے طبی کیمپ کا بھی دورہ کیا۔ عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ پرنس ولیم نے دورہ فلسطین کے موقع پر صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی، دوران ملاقات شہزادہ ولیم کا محمود عباس سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے قائم ہونے کی امید ظاہر کی۔ فلسطین کی سرکاری خبر ادارے کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطینی حکومت اور عوام اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن کے انتہائی سنجیدہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ فلسطین اور اسرائیل 1967 میں بننے والی سرحدوں کے مطابق امن و امان کے ساتھ رہیں۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ فلسطین کا طویل عرصے سے یہ موقف ہے اور ہم مذاکرات کے ذریعے امن و امان چاہتے ہیں۔ فلسطینی صدر نے شہزادہ ولیم کے دورہ فلسطین کے موقع پر کہا کہ ’برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے فلسطین کا سرکاری دورہ فلسطینی اور برطانوی عوام کے مابین رشتے کو مضبوط بنائے گا، ہم مسئلہ فلسطین کے حوالے سے

ہمیشہ برطانیہ کے شہریوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ شہزادہ ولیم نے محمود عباس سے ملاقات کے دوران کہا کہ‌ ’مجھے خوشی ہے برطانیہ آپ کے ساتھ فلسطینی عوام کی تعلیم کے لیے کوششیں کررہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے پوری امید ہے کہ برطانیہ اور فلسطین کے درمیان قائم دوستانہ تعلقات مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا باعث بنے گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں