پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی وہ کہانی جو کسی کو معلوم نہیں،کس طرح اور کہاں سے پرزے اور ٹیکنالوجی حاصل کی گئی،پہلی مرتبہ نا قابل یقین حد تک حیران کن تفصیلات منظر عام پر

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی کہانی آج تک ایک معمہ تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ہم نے ایٹم بم کے پرزے کہاں سے حاصل کیے اور یہ ٹیکنالوجی کس سے لی گئی۔ مگر اب اس کی تفصیل منظرعام پر آ گئی ہے۔بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق

پاکستان کے94سالہ سابق سیاست دان اور سفارت کار جمشید مارکر نے اپنی آپ بیتی لکھی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی کہانی بیان کی ہے۔ جمشید مارکر لکھتے ہیں کہ ”یہ کہانی جیمزبانڈ کی طرح کی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اکرام اور میں کس طرح سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے دیہاتی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے تھے۔“رپورٹ کے مطابق جمشید مارکر 1980ء سے 1982ء کے دوران جرمنی میں پاکستان کے سفیر رہے تھے اور وہاں یورپی کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں کرکے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے مذاکرات کرتے تھے۔جمشید مارکر لکھتے ہیں کہ ”ان ملاقاتوں اکرام خان نامی وزیر کے درجے کے آفیسر میرے ساتھ ہوتے تھے۔ اکرام خان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں کام کرنے والی ایٹمی لیبارٹری کی انتظامیہ سے رابطے میں ہوتے تھے۔وہ انتہائی قابل اور لائق آفیسر تھے۔انہوں نے میرے ساتھ مل کر مغربی مارکیٹس سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی ڈیوٹی انتہائی فرض شناسی کے ساتھ نبھائی۔بھارتی اخبار کے مطابق جمشید مارکر براہ راست جنرل ضیاء الحق کی نگرانی میں کام کرتے تھے اور انہوں نے پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا اور یورپی فرمز سے بھاری قیمت کے عوض ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی۔ 30سالوں میں

جمشید مارکر نے کئی اہم پاکستانی سفارت خانوں میں خدمات سرانجام دیں لیکن بون، پیرس اور واشنگٹن میں بطور پاکستانی سفیر تعینات ہونے پر وہ انتہائی کامیابی کے مرحلے میں داخل ہوئے۔ یہ تمام کامیابیاں انہوں نے 1977ء سے 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سمیٹیں۔ آپ بیتی میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی تعریف کی کہ انہوں نے انتہائی چالاکی کے ساتھ مغرب کی توجہ دوسری طرف مبذول کیے رکھی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرف انہیں متوجہ نہیں ہونے دیا۔ جمشید مارکر نے اپنی کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے آگاہ تھیں لیکن وہ افغان جنگ کے باعث جنرل ضیاء الحق کو اس سے باز رکھنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں