چین نے بندوق کی ایسی قسم تیار کر لی کہ جان کر بھارت تھر تھر کانپے لگے

بیجنگ(نیوز ڈیسک) کلاشنکوف دنیا بھر کی افواج کا پسندیدہ ترین ہتھیار ہے لیکن چینی سائنسدانوں نے اس بندوق کی ایک ایسی نسل تیار کر لی ہے کہ جس کا تصور صرف ”سٹار وارز“ جیسی فلموں میں پایا جاتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اپنی نوعیت کی دنیا کی یہ پہلی AK-47 رائفل ہے جو تقریباً ایک کلومیٹر دور کھڑے آدمی کو آگ لگا کر بھسم کر سکتی ہے۔ اس میں سے توانائی کی ایک طاقتور لیزر شعاع نکلتی ہے

جو دکھائی نہیں دیتی لیکن انسانی جلد کو بری طرح جلا دیتی ہے۔ توانائی کی یہ طاقتور لہر ہر طرح کے لباس میں سے گزر کر انسانی جلد کو جلاسکتی ہے۔اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ رائفل بڑے پیمانے پر تیاری کے مرحلے میں داخل ہورہی ہے اورسب سے پہلے یہ ہتھیار پولیس کے انسداد دہشتگردی سکواڈز کے حوالے کیا جائے گا۔ نئی قسم کے اس ہتھیار کو Zkzm-500 کا نام دیا گیا ہے۔ اسے شیان انسٹیٹیوٹ آف آپٹکس اور پرسیژن مکینکس کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم نے تیار کیا ہے۔ اس کا وزن ایک عام کلاشنکوف رائفل کے برابر ہے اور رینج تقریباً ایک کلومیٹر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں